آن لائن طرحی مشاعرے کے لئے لکھی گئی غزل
تاخیر کی وجہ سے اس غزل کو شریک مشاعرہ نہ کرسکا۔
زلف بکھری جو ان کے شانے پر
ہوش بھی نہ رہا ٹھکانے پر
میں تو بکھرا تھا مثل سنگریزہ
شوخ نظروں کے تازیانے پر
آرزو تھی کہ ہم بھی گائیں گے
یاں تو بندش ہے گنگنانے پر
ہم نے سوچا تھا عشق کرتے ہیں
آگئی عقل اب ٹھکانے پر
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔